Bharat Express DD Free Dish

Peace Talks

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک اہم اور ضروری گفتگو کی ہے۔ زیلنسکی کے مطابق، دونوں لیڈروں کے درمیان نیویارک میں ملاقات کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یہ ملاقات کئی اہم معاملات میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یوکرین کے لیے امن کے عمل کو ’اولین ترجیح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سمت میں امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری ہے اور یوکرین سنجیدہ اقدامات کے لیے تیار ہے۔

یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق روس کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو کبھی معمول کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے امن اور خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات جلد پاکستان میں ہونے والے تھے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔

ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی رد کیا جس میں انہوں نے مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باوجود وہ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔

وزیراعظم نے بدھ کی رات شیخ صباح الخالد الصباح سے بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور حالیہ واقعات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے کویت پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت بھی کی۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل بات چیت ضروری ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوحہ سے شروع ہوکر استنبول میں ختم ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔