Bharat Express DD Free Dish

Pakistan-Afghanistan Peace Talk : پاکستان-افغانستان مذاکرات بند گلی میں، خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ جانے کے امکانات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوحہ سے شروع ہوکر استنبول میں ختم ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوحہ سے شروع ہوکر استنبول میں ختم ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں ایک نئی جنگ بھڑکنے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔

دوحہ سے استنبول تک امیدیں اور مایوسیاں
ستمبر کے اواخر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا تھا، جس کے بعد 16 اکتوبر کو دوحہ میں جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا۔ یہ معاہدہ ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہوا تھا، جس سے ایک بار پھر امن کی امید پیدا ہوئی۔ جنگ بندی کے فوراً بعد دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ امن مذاکرات کو اگلے مرحلے میں استنبول منتقل کیا جائے تاکہ سرحد پار دہشت گردی، تجارتی روابط اور باہمی اعتماد کے فروغ جیسے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہو سکے۔ تاہم استنبول میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں بات آگے بڑھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگئی۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے مذاکرات میں ٹھوس اور شواہد پر مبنی تجاویز پیش کیں، جن میں سرحدی علاقوں میں ایک مشترکہ نگرانی کا نظام بنانے کی تجویز شامل تھی تاکہ دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ مگر طالبان وفد نے نہ صرف ان تجاویز کو غیر منطقی قرار دیا بلکہ کسی واضح لائحہ عمل پر بھی اتفاق نہیں کیا۔

اسلام آباد کا سخت پیغام
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر طالبان حکومت نے اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات نہ کیے تو پاکستان کے پاس ”کھلی جنگ“ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری سرزمین پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی افغان علاقے سے ہوتی ہے۔ اگر کابل حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو ہمیں اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے قدم اٹھانا ہوگا“۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اسلام آباد کی حکومت نے افغانستان کو باور کرایا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی یا تاخیر کی صورت میں دونوں ممالک کے تعلقات ناقابلِ تلافی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔

طالبان کا رویہ اور ترکی کی کوششیں
ذرائع کے مطابق طالبان نمائندوں نے پاکستانی موقف کو ”غیر ضروری دباؤ“ قرار دیا اور کہا کہ ان کے ملک کی خودمختاری پر کسی بیرونی نگرانی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ترکی، جو دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کوشش کی کہ کم از کم مشترکہ سرحدی تعاون کے لیے ایک فریم ورک طے پا جائے، مگر مذاکرات کا ماحول اتنا کشیدہ رہا کہ کوئی تحریری پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔

امریکہ کا دَخل اور ٹرمپ کا دعویٰ
اسی دوران امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو ختم کر سکتے ہیں۔
ملیشیا میں منعقدہ آسیان اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم نے ایک کے بعد ایک جنگ ختم کی، اب صرف ایک باقی ہے — پاکستان اور افغانستان کی۔ میں اسے بھی ایک مہینے میں ختم کر سکتا ہوں“۔ ٹرمپ نے خود کو ”امن لانے والا رہنما“ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی ثالثی لاکھوں جانیں بچا سکتی ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے زیادہ ضرورت علاقائی سطح پر باہمی اعتماد کی ہے۔

کیا خطہ ایک اور جنگ کے دہانے پر ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوحہ اور استنبول مذاکرات کی ناکامی اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسائل ابھی حل نہیں ہوئے۔ پاکستان کی ترجیح دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی ہے، جب کہ طالبان حکومت اسے اپنی داخلی خودمختاری کے خلاف سمجھتی ہے۔ ترکی کی کوششوں کے باوجود فی الحال کوئی نیا مذاکراتی دور طے نہیں پایا۔ اگر آنے والے ہفتوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو سرحدی جھڑپیں ایک بڑے تصادم میں بدل سکتی ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام اس وقت بدامنی کے دہانے پر ہیں، جبکہ عالمی برادری ایک نئے بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ طالبان حکومت سرحد پار حملوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور پاکستان بھی عسکری دباؤ کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرے۔ فی الحال حقیقت یہی ہے — امن کی امید ابھی باقی ہے، لیکن خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read