Bharat Express DD Free Dish

Pakistan-Afghanistan Border

شمال-مغربی پاکستان میں ہوئے خودکش حملے میں فوج کے 12 جوان سمیت کم ازکم 15 افراد کی موت ہوگئی۔ پاکستانی فوج کی میڈیا ونگ نے کہا، ’’خیبرپختونخوا میں ہوئے اس خودکش حملے میں 15 افراد کی جان گئی ہے، جس میں 12 فوج کے جوان، دوپولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سابق سرکاری افسر شامل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوحہ سے شروع ہوکر استنبول میں ختم ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

خامہ پریس نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغان فوجی گزشتہ تین دنوں سے ڈیورنڈ لائن کے قریب چوکیاں بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب مہاج نیوز نے مقامی اور افغان ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رات گئے تک فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تھا۔