Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War: ’’روس ایک ہفتے تک یوکرین کے شہروں پر نہیں کرے گا حملہ…امن مذاکرات میں آئی تیزی…‘‘، ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اس بات پر تیار ہو گیا ہے کہ شدید سردی کے دوران ایک ہفتے تک یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، کیونکہ سخت سرد موسم میں حملوں سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

وِٹکوف نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں امریکی حکام کی روسی حکام سے ملاقات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ اتوار کو ابو ظہبی میں پانچ روسی جنرل ان کے ساتھ موجود تھے اور اس ملاقات میں خاصی مثبت پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور تقریباً ایک ہفتے بعد دوبارہ بات چیت کی جائے گی۔

امن معاہدے کے مسودے پر مکمل ہو چکا ہے کام

وِٹکوف کے مطابق امن معاہدے کے مسودے پر کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے پاس ایک سکیورٹی پروٹوکول معاہدہ ہے جو بڑی حد تک تیار ہو چکا ہے، اور ایک خوشحالی سے متعلق معاہدہ بھی ہے جو تقریباً مکمل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یوکرین کے عوام اب امید کر رہے ہیں کہ ہم جلد کسی امن معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔”

ٹرمپ نے پوتن سے سیدھے اپیل کرنے کا کیا ذکر

اس کے بعد ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سیدھے اپیل کرنے کا ذکر کیا۔ ٹرمپ نے کہا، “سردی، بہت زیادہ سردی کی وجہ سے… میں نے ذاتی طور پر صدر پوتن سے درخواست کی کہ وہ اس دوران ایک ہفتے تک کیف اور دیگر شہروں اور قصبوں پر گولہ باری نہ کریں، اور وہ اس پر متفق ہو گئے۔”

مشیروں نے ٹرمپ کو فون نہ کرنے کا دیا مشورہ

ٹرمپ نے بتایا کہ کئی مشیروں نے انہیں فون نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، لیکن انہوں نے اس کے باوجود بات کی اور اس کے نتائج سامنے آئے۔ ٹرمپ کے مطابق یوکرین اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور سرد موسم میں میزائل حملے عوام کی حالت مزید خراب کر دیتے ہیں۔

اسٹیو وِٹکوف نے ٹرمپ کو دیا پیش رفت کا سہرا

اسٹیو وِٹکوف نے اس پیش رفت کا سہرا ٹرمپ کی مذاکراتی حکمتِ عملی کو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی موجودگی اور دباؤ کے باعث یہ ممکن ہو سکا، جبکہ یوکرین کو پہلے یہ یقین ہی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ سردی کی شدت ریکارڈ توڑ سطح پر ہے اور حالات امریکہ جیسے ہی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے عام شہریوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے براہِ راست مداخلت کی۔

چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے یوکرین جنگ

امریکی انتظامیہ اپنی پالیسی کو “طاقت کے ذریعے امن” قرار دے رہی ہے، جبکہ امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یوکرین جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور کئی بار امن کی کوششیں کی گئیں، لیکن اب تک مکمل جنگ بندی ممکن نہیں ہو سکی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read