Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں ساراتوف آئل ریفائنری، اینگلز فوجی ایئربیس اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی حملوں میں 16 یوکرینی علاقے متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

روسی حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ حملے کا اصل ہدف کون تھا، لیکن ماسکو میں اس واقعے کو یوکرین جنگ سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ریستوران ماسکو کی اسٹالن دور کی مشہور بلند عمارتوں میں سے ایک میں واقع ہے۔

یورو نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ تارناؤا کولونیا کے علاقے کے رہائشیوں نے جمعرات کی صبح تقریباً چار بجے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، جس سے گھروں کی کھڑکیاں تک لرز اٹھیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے ایک کھیت میں تقریباً دس میٹر چوڑا گڑھا اور کسی نامعلوم شے کا ملبہ برآمد کیا۔ یہ مقام رہائشی علاقے سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ہے۔

ماسکو کے قریب یوکرین کے بڑے ڈرون حملے کے بعد روس نے بیلسٹک میزائلوں سے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ لاجسٹک مراکز اور تیل کے ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

صدر زیلنسکی کے مطابق روس نے سومی کے علاقے پر 15 گائیڈڈ فضائی بم گرائے، جس سے ایک شخص زخمی ہوا اور متعدد رہائشی مکانات سمیت شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ زاپوریژیا میں فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ خارکیف میں گولہ باری سے تین افراد زخمی ہوئے۔

زیلنسکی کے مطابق خارکیف کے علاقے میں روسی ڈرونز اور گائیڈڈ فضائی بموں کے حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی مکانات اور مکمل طور پر شہری استعمال کی عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں ایک سنیما ہال اور ٹینس کورٹ بھی شامل ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے دوران کریملن نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج نے مشرقی یوکرین کے اہم شہر کونستانتینوکا    پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق یہ شہر اب روسی فوج کے قبضے میں ہے، جبکہ صدر ولادیمیر پتن نے اسے جنگی حکمتِ عملی کے اعتبار سے انتہائی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مختلف مقامات پر آگ بھڑکتی اور آسمان میں دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں نے ایک بار پھر ماسکو کے علاقے میں کامیاب کارروائی کی ہے اور ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ماسکو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس بار ماسکو نے بھی یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا اثر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کے علاقے میں تقریباً 500 کلومیٹر دور واقع ایک تیل ریفائنری کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔