روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز ایران کے ساتھ اہم اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل روسی پارلیمنٹ پہلے ہی اس معاہدے کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ اطلاع کریملن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں دی گئی۔ یہ معاہدہ جنوری میں اس وقت طے پایا تھا جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان قومی سلامتی، پرامن جوہری توانائی کے استعمال اور مغربی ممالک کی طرف سے لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کے خلاف مل کر کام کرنے جیسے کئی معاملات پر تعاون کی بات کی گئی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے کہ تیسرے ملک سے حملہ ہوتا ہے تو دونوں ملک مل کر جوابی کارروائی کریں گے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
روس اور یوکرین ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز ایسٹر کے موقع پر 30 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ،لیکن اتوار 20 اپریل کو لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ روس اور یوکرین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ یوکرین نے شروع سے ہی اس جنگ بندی کو ایک ’دھوکہ‘ قرار دیا تھا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے، تو یوکرین بھی پرامن رہے گا لیکن اگر حملہ ہوا تو جواب ضرور دیا جائے گا۔ زیلنسکی نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر غیر مشروط جنگ بندی اور امن کی بات کی ہے۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ بھی اچھی گفتگو کی۔
روسی حکومت نے بھی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر دیا
روسی حکومت نے بھی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان نے کہا کہ پوتن یوکرین سے شہری علاقوں پر حملہ نہ کرنے کے بارے میں بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد حل نہ نکالا گیا تو وہ مذاکرات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امید ہیں کہ اس ہفتے کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ روس اب بھی چاہتا ہے کہ یوکرین اپنے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑ دے۔ نیز، وہ چاہتا ہے کہ یوکرین ہمیشہ کے لیے ایک غیر جانبدار (غیر منسلک) ملک بن جائے۔ یوکرین اسے ہتھیار ڈالنے کو سمجھتا ہے۔
یوکرین نے بڑا دعویٰ کر دیا
ادھر یوکرین نے کہا کہ روس نے گزشتہ اتوار کو 3000 سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ ادھر روس نے کہا کہ یوکرین نے اس پر 900 سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا اور 400 بار گولہ باری کی جس کے نتیجے میں عام شہری مارے گئے۔
بھار ت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
