Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بڑے لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

ولادیمیر پوتن یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے رکن نہیں ہیں، تاہم وہ 2008 سے 2012 تک پارٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس وقت بھی وہ پارٹی کے باقاعدہ رکن نہیں تھے۔ پارٹی کے ضابطوں کے مطابق چیئرمین بننے کے لیے پارٹی کی رکنیت لازمی نہیں ہے۔ 2012 میں پوتن نے پارٹی چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد دمتری میدویدیف نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔

پی ایم مودی نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے ’سانگ فار ڈینس‘ پوسٹ کیا۔ یہ گانا ’پائینو فینٹاسٹک‘ نے پیش کیا ہے۔ اس گانے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ 1985 میں ریلیز ہونے والا اٹالو ڈسکو ٹریک ہے۔ بعد میں اسے ’وائیڈ پوتن واکنگ‘ جیسے وائرل میمز میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر پوتن کو ’تروککورل‘ کا روسی ترجمہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عظیم شاعر تروولوور کی صدیوں پرانی دانش مندی کو زبان اور سرحدوں کی رکاوٹوں سے آگے پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔

برکس سربراہ اجلاس میں اس بار صرف سفارت کاری اور عالمی مسائل پر ہی گفتگو نہیں ہوگی بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں کے ذائقوں اور ہنر کی جھلک بھی دیکھنے کو ملے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ بہار کا ستّو اور مکھانا غیر ملکی مہمانوں کے درمیان خصوصی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اجلاس میں آنے والے بین الاقوامی میڈیا نمائندوں اور مہمانوں کو بہار کی ان روایتی مصنوعات سے روشناس کرایا جائے گا۔

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کے لیے آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ، بلیوارڈ روڈ، رانی جھانسی مارگ، پنچ کوئیاں روڈ اور آؤٹر سرکل والا راستہ تجویز کیا گیا ہے۔ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے آئی ایس بی ٹی سے رنگ روڈ، ہنومان مندر اور ایس پی مکھرجی مارگ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔نظام الدین ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کو رنگ روڈ، آشرم چوک اور متھرا روڈ سے جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ کریملن نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے برکس سربراہ اجلاس سے ٹھیک پہلے ہو رہی ہے۔اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔

روسی صدر کے دہلی پہنچنے سے قبل کریملن کے ترجمان اور صدر پوتن کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے منگل کو میڈیا سے ورچوئل گفتگو کی۔ ان کے بیان میں ہندوستان اور روس کے قریبی تعلقات کے ساتھ بدلتی عالمی صورتحال کی بھی جھلک نظر آئی۔ پیسکوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطے انتہائی اہم ہوں گے، خاص طور پر وزیراعظم مودی کے ساتھ ملاقات۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل انسانیت کی پکار ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام ہے۔ گاندھی کی سرزمین اور بدھ کی سرزمین ایک ہی پیغام دیتی ہیں، اور وہ ہے امن کا راستہ۔ آج میں آپ کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔