Bharat Express

Vladimir Putin

یوکرین میں روس کے حملے مسلسل جاری ہیں اوراس بار مڈس یوکرین کے کروی ریہ شہر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کم ازکم 14 لوگوں کی موت ہوگئی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ مہلوکین میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ ملبے کے نیچے ابھی بھی کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مہلوکین کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے۔

امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دورۂ ہندوستان کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت قبول کر لی ہے اور اس دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔

زیلینسکی نے کہا، 'میں چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام شراکت دار یہ سمجھیں کہ پوتن کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہ کس چیز کی تیاری کر رہے ہیں اور وہ کس چیز کو نظر انداز کریں گے۔'

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

سفارتی کوششوں کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کا دور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ روس یوکرین میں جنگ بندی ہو۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے، میں اس پر غور کر رہا ہوں اور کچھ لوگ اسے مناسب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے اور میں اس بارے میں جلد فیصلہ کروں گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

روس نے فرانس اور برطانیہ کی امن تجویزکویوکرینی فوج کو بچانے کی کوشش بتایا اوراسے خارج کردیا۔ وہیں زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ابھی دور ہے اور امریکی حمایت جاری رہنے کی امید ظاہرکی۔

کابینہ نے گذشتہ دونوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کئی برادر اور دوست ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا جائزہ بھی لیا۔