Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں

میروشینک نے کئی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاروبیلسک میں ایک کالج پر حملہ، برائنسک کے علاقے میں بیلاروسی بچوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانا اور یناکیئیوو میں ایک مسافر بس پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔

ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اہم سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن رواں سال 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔ روسی حکومت نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس سال کے آخر میں روس کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔

روسی وزارت دفاع نے تقریباً 8 ہزار 970 جنگ بندی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی۔ دوسری جانب یوکرینی حکام نے الزام لگایا کہ روسی حملے جنگ بندی کے باوجود جاری رہے، جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک جب کہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کی ریڈی ایشن مانیٹرنگ لیبارٹری پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والی گفتگو نہایت مثبت رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کے تئیں ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نہ صرف سمندری راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے بلکہ طویل عرصے سے یرغمال بنائے گئے ملاحوں کی رہائی بھی فوری انسانی ضرورت ہے۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایران کو فراہم کی جانے والی انسانی امداد اور دیگر معاملات میں روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں روس کی مدد ایران کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بس ٹرنیوکاکس بے کے قریب چل رہی تھی، جو فرنٹ لائن سے تقریباً پینسٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حملے کی شدت کے باعث بس کو شدید نقصان پہنچا اور موقع پر ہی کئی افراد کی موت ہوگئی۔