Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

یہ جوہری توانائی سے چلنے والی کروز میزائل ہے۔ یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے پر حملہ کر سکتی ہے۔

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:"اس ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ہم کچھ زمین واپس لیں گے، کچھ تبادلے ہوں گے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔"

پی ایم مودی نے اس بات چیت کے بارے میں ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھاکہ میں نے اپنے دوست صدر پوتن کے ساتھ بہت اچھی اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ میں نے یوکرین پر تازہ ترین پیش رفت کو شیئر کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر اسے بین الاقوامی منڈی میں منافع کے ساتھ بیچ رہا ہے، جس سے روس کو مالی مدد مل رہی ہے۔

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ روس-یوکرین جنگ کے دوران روس کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے عالمی دباؤ ڈال رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ ان میں سے ایک نہ ہو۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر توجہ دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

مارک روٹے نے مزید کہا:"براہ کرم پوتن کو فون کریں اور کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین اثرات برازیل، بھارت اور چین پر پڑیں گے۔

پہلے یہ اسکیم 18 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے تھی، لیکن اب اس میں نابالغ لڑکیوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ روس کی ان پالیسیوں کو "پرو نیٹلزم پالیسیاں" کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے ترغیب دینا ہوتا ہے۔