Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باوجود، اسی دن روس اور یوکرین نے قیدیوں کا تبادلہ کیا، دونوں فریقوں نے 246 گرفتار فوجیوں کی واپسی کی تصدیق کی۔ زیلنسکی نے کہا کہ اب تک رہا کیے گئے یوکرینی جنگی قیدیوں کی کل تعداد 4,552 تک پہنچ گئی ہے۔

ڈاریا کوزیریوا نے ایک انٹرویو میں خود کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈاریا ان 243 لوگوں میں سے ایک ہے، جنہیں جنگ مخالف موقف رکھنے کی وجہ سے جیل بھیجا گیا۔

 انہوں نے کہا، "آپ یوکرین کو کچھ ایسا بنا سکتے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد برلن میں ہوا تھا، جہاں ایک حصہ روسی کنٹرول میں تھا، دوسرا فرانسیسی، برطانوی اور امریکی کنٹرول میں تھا۔"

اس ویب سائٹ نے لکھا، 'روس نے کہا ہے کہ وہ امن اور جنگ بندی چاہتا ہے، لیکن اس نے سمجھوتہ یا رعایت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ وہ صرف شرطیں لگا رہا ہے۔

امریکہ اور روس کے تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے نمایاں طور پر بہتر ہو رہے ہیں۔ حالانکہ، تاریخی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے روس کے خلاف انتہائی نرم رویہ اپنایا ہے۔ وہ یوکرین جنگ کے معاملے پر بھی ماسکو کی طرف جھکاؤ رکھتے نظر آئے، جس سے کیف اور اس کے یورپی اتحادی پریشان ہو گئے ہے۔

یوکرین میں روس کے حملے مسلسل جاری ہیں اوراس بار مڈس یوکرین کے کروی ریہ شہر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کم ازکم 14 لوگوں کی موت ہوگئی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ مہلوکین میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ ملبے کے نیچے ابھی بھی کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مہلوکین کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے۔

امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دورۂ ہندوستان کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت قبول کر لی ہے اور اس دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔

زیلینسکی نے کہا، 'میں چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام شراکت دار یہ سمجھیں کہ پوتن کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہ کس چیز کی تیاری کر رہے ہیں اور وہ کس چیز کو نظر انداز کریں گے۔'

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔