Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

یہ بل اگست میں امریکی سینیٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر بھارت اور چین پر پڑے گا ،جو روس سے سستا خام تیل خریدتے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے روسی صدر کو گمراہ قرار دیا۔ جہاں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے بحران کو حل کرنا ان کے ابتدائی اندازے سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کی کوششوں کے درمیان منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے خلاف مسلسل فوجی کارروائی پر سخت سرزنش کی۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا تو مغرب کو سخت پابندیوں کا سہارا لینا چاہیے۔

استنبول میں روسی قونصل خانے کے باہر سفارت کار نے کہا کہ روس استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو 2022 میں تعطل کا شکار امن عمل کے ’تسلسل‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہماری ٹیم کا بنیادی مقصد تنازعہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو ذاتی طور پر فون کیا اور 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے وحشیانہ دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہمارا موقف یوکرین میں امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے بدستور وہی ہے ... تاہم اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ہم ثالثی کے کردار سے پیچھے ہٹ جائیں گے"۔

ہندوستان کی جانب سے کسی سرکاری وفد کا اعلان نہیں ہوا، لیکن روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ممکنہ طور پر اس تقریب میں شریک ہو سکتے ہیں۔ روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق، راج ناتھ سنگھ کی شرکت ممکن ہے اور اس پر حکام غور کر رہے ہیں۔ بھارتی مسلح افواج کے ایک اعزازی دستے کی ریڈ اسکوائر پریڈ میں شرکت پر بھی بات چیت جاری ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز ایسٹر کے موقع پر 30 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ،لیکن اتوار 20 اپریل کو لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

روسی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یوکرین روس کی مثال پر عمل کرے گا۔ حالانکہ، انہوں نے روس کے چیف آف دی جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف کو ہدایت کی کہ کیف کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے روسی فوجیوں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا جائے۔