Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

سفارتی کوششوں کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کا دور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ روس یوکرین میں جنگ بندی ہو۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے، میں اس پر غور کر رہا ہوں اور کچھ لوگ اسے مناسب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے اور میں اس بارے میں جلد فیصلہ کروں گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

روس نے فرانس اور برطانیہ کی امن تجویزکویوکرینی فوج کو بچانے کی کوشش بتایا اوراسے خارج کردیا۔ وہیں زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ابھی دور ہے اور امریکی حمایت جاری رہنے کی امید ظاہرکی۔

کابینہ نے گذشتہ دونوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کئی برادر اور دوست ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا جائزہ بھی لیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان تعلقات معمول پر نظر نہیں آرہے ہیں۔ حال ہی میں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ جھوٹ پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

اگلے ہفتے روس کی طرف سے یوکرین پر کیے گئے مکمل فوجی حملے کو تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ماسکو کا مشرقی ڈونباس کے علاقے کے ایک بڑے حصے پر قبضہ برقرار ہے۔ روسی افواج نے حال ہی میں کوراخوف قصبے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شمال مشرق میں پوکروسک شہر کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ، امریکہ اور اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم اس جنگ کو منصفانہ اور دیرپا امن کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ حالانکہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے یورپی اتحادیوں اور یوکرین کو چونکاتے ہوئے پوتن کو فون کیا اور امن مذاکرات کے فوری آغاز کا اعلان کیا۔

ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے فون پر بات چیت کی۔ جو 12 فروری کو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی تھی۔ امریکی نمائندے مائیکل میکول نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام آنے والے دنوں میں سعودی عرب میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کریں گے۔

استرخان کے گورنر ایگور بابوشکن نے کہا کہ یوکرین نے رات کے وقت ایک ڈرون حملہ کیا، جس کا مقصد علاقے میں واقع سہولیات کو نشانہ بنانا تھا۔ حالانکہ، روسی فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی نے حملے کو پسپا کرنے میں موثر کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔