Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine peace talks to be held in Istanbul: استنبول میں ہوں گے روس یوکرین امن مذاکرات، پوتن اور زیلنسکی نہیں ہوں گے شریک

استنبول میں روسی قونصل خانے کے باہر سفارت کار نے کہا کہ روس استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو 2022 میں تعطل کا شکار امن عمل کے ’تسلسل‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہماری ٹیم کا بنیادی مقصد تنازعہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

استنبول میں ہوں گے روس یوکرین امن مذاکرات

استنبول: یوکرین اور روس کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے استنبول میں دونوں ممالک کے درمیان امن اجلاس ہوگا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی جمعرات کے روز ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچے جہاں انہوں نے صدر رجب طیب اردوان سے بات چیت کی۔ انہوں نے بات چیت کے بعد انقرہ میں یوکرینی سفارت خانے میں کہا کہ ہم روس کے ساتھ امن مذاکرات میں سنجیدہ ہیں۔ یوکرینی وفد مذاکرات میں حصہ لے گا۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ’یوکرین کے صدر نے کہا کہ امن مذاکرات میں شریک روسی وفد میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو فیصلے لینے والا ہو، اس لیے ماسکو پر شبہ ہے۔ امن مذاکرات میں یوکرین کی نمائندگی وزیر دفاع رستم عمروف کریں گے، جس میں فوجی اور انٹیلی جنس حکام سمیت کچھ اور لوگ شامل ہوں گے۔ زیلنسکی نے کہا، ’’اگر لیڈروں کی سطح پر غیر مشروط جنگ بندی پر بات ہوگی تو وہ اس پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘‘ یہ بات چیت جمعہ کو ہو سکتی ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن کے ایک سینئر معاون ولادیمیر میڈنسکی، جو مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا، ’’ان کی ٹیم کے پاس بات چیت کے لیے ضروری اہلیت موجود ہے اور وہ تعمیری نقطہ نظر کے ذریعے ممکنہ حل اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنے پر توجہ دے گی۔‘‘

استنبول میں روسی قونصل خانے کے باہر سفارت کار نے کہا کہ روس استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو 2022 میں تعطل کا شکار امن عمل کے ’تسلسل‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہماری ٹیم کا بنیادی مقصد تنازعہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انطالیہ میں نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا، ’’روس اور یوکرین دونوں نے اصولی طور پر جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ، دونوں کے اپنے اپنے خیالات ہیں۔ یوکرین فوری طور پر جنگ بندی چاہتا ہے جب کہ روس امن مذاکرات کی کامیابی کے بعد جنگ بندی کے حق میں ہے۔‘‘

فیدان نے مزید کہا، ’’دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ایک خاص مرحلے پر پہنچ چکی ہے، اب انہیں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کے لیے رعایتیں دینا چاہیے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا، ’’واشنگٹن روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ ہم آئندہ چند دنوں میں اس میں پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

اتوار کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی پہل کی۔ بات چیت جمعہ کے روز استنبول میں ہو سکتی ہے۔ روس اور یوکرین کے صدور اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read