Bharat Express DD Free Dish

Volodymyr Zelenskyy

گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بڑے لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر زیلینسکی ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مالدووا سے اوسلو روانہ ہو رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا خصوصی طیارہ آسمان میں بلند ہوا، ایک مشتبہ ڈرون اچانک طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرون طیارے سے کتنی دوری پر تھا، تاہم اس غیر متوقع ڈرون خطرے کے باعث زیلینسکی کی پرواز کو کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں ساراتوف آئل ریفائنری، اینگلز فوجی ایئربیس اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی حملوں میں 16 یوکرینی علاقے متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا اثر تقریباً 1,350 کلومیٹر دور واقع ایک تیل کی تنصیب پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے ان کامیابیوں کو ممکن بنانے والی یوکرین کی مسلح افواج، خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی سروس کی تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا۔

دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں

صدر زیلنسکی کے مطابق روس نے سومی کے علاقے پر 15 گائیڈڈ فضائی بم گرائے، جس سے ایک شخص زخمی ہوا اور متعدد رہائشی مکانات سمیت شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ زاپوریژیا میں فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ خارکیف میں گولہ باری سے تین افراد زخمی ہوئے۔

زیلنسکی کے مطابق خارکیف کے علاقے میں روسی ڈرونز اور گائیڈڈ فضائی بموں کے حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی مکانات اور مکمل طور پر شہری استعمال کی عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں ایک سنیما ہال اور ٹینس کورٹ بھی شامل ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کی اینٹی بیلسٹک دفاعی صلاحیت کے حوالے سے شراکت دار ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے یوکرین کے عوام کے تحفظ کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں، اس لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں کہا گیا کہ زیلنسکی کے فیصلے سے یوکرینی باغی فوج سے وابستہ ان ہزاروں متاثرین اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا، جنہیں پولینڈ میں گہرا احترام حاصل ہے۔

میروشینک نے کئی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاروبیلسک میں ایک کالج پر حملہ، برائنسک کے علاقے میں بیلاروسی بچوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانا اور یناکیئیوو میں ایک مسافر بس پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔