امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کی کوششوں کے درمیان منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے خلاف مسلسل فوجی کارروائی پر سخت سرزنش کی۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم TruthSocial پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا ’’جس چیز کا ولادیمیر پوتن کو احساس نہیں وہ یہ ہے کہ اگر میں ساتھ نہ ہوتا تو روس کے ساتھ بہت بری چیزیں ہو چکی ہوتیں۔ میرا مطلب ہے کہ واقعی بہت بریں چیزیرں۔ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں!‘‘
روس کے خلاف پابندیوں پر غور کر رہے ہیں ٹرمپ
واضح رہے کہ حال ہی میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے تازہ حملے کے بعد اس پر اضافی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ وہیں ٹرمپ نے پوتن سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہ بے وجہ بہت سے لوگوں کو مار رہا ہے۔ اور میں صرف فوجیوں کی بات نہیں کر رہا ہوں، بلکہ بغیر کسی وجہ کے یوکرین کے شہروں میں میزائل اور ڈرون مارے جا رہے ہیں۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ پورا یوکرین چاہتا ہے، صرف اس کا ایک ٹکڑا نہیں۔۔۔ لیکن اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ عمل اسے روس کے زوال کی طرف لےجائے گا۔‘‘
میں پوتن سے خوش نہیں ہوں: ٹرمپ
ٹرمپ نے مزید کہا ’’پوتن جو کچھ کر رہا ہے، میں اس سے خوش نہیں ہوں۔ وہ بہت سے لوگوں کو مار رہا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ پوتن کو کیا ہو گیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ جمعہ اور اتوار کی درمیانی شب روس نے یوکرین پر تقریباً 900 ڈرونز لانچ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ وہیں اتوار کی رات روس نے 3 سال سے جاری اس جنگ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کرتے ہوئے 355 ڈرون فائر کیے تھے۔
یوکرین کی فضائیہ نے روئٹرز کو بتایا کہ اس کے بعد پیر سے منگل تک روس نے یوکرین پر 60 ڈرون فائر کیے ہیں۔ وہیں روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے دفاع نے روس کے سات علاقوں میں راتوں رات 99 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں۔ روس کے تازہ حملے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو منفی طور پر متاثر کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

