15 اگست 2025 کو امریکی ریاست الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان روس-یوکرین امن مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ملاقات سے پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے روس کی معیشت کو بحران زدہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ولادیمیر پوتن نے خود اس ملاقات کے لیے فون کیا۔ اس کے جواب میں روس نے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے، جس میں دنیا کی سب سے متنازع اور خطرناک میزائلوں میں سے ایک 9M730 بوریویسٹنک (Burevestnik) کے ممکنہ تجربے کی تیاریاں شامل ہیں۔
9M730 بوریویسٹنک روس کا ناقابل شکست ہتھیار ہے۔
یہ جوہری توانائی سے چلنے والی کروز میزائل ہے۔ یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے پر حملہ کر سکتی ہے۔ اس میں راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس کی وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکی NASIC رپورٹ کے مطابق، اگر یہ میزائل فعال سروس میں آ جاتی ہے تو روس کو ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہو سکتی ہے، جسے مغربی ممالک کے لیے روکنا مشکل ہوگا۔
تجربے کے حوالے سے نووایا زیملیا میں سرگرمیاں
روس نے 7 سے 12 اگست تک 40,000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں NOTAM (نوٹس ٹو ایئر مین) جاری کیا ہے، جو عام طور پر بڑے میزائل تجربات سے پہلے جاری کیا جاتا ہے۔ اس دوران روس نے اپنے چار بحری جہاز پینکوو ٹیسٹنگ رینج کے قریب سے ہٹا کر مشرقی بیرنٹس سی میں نگرانی کے لیے تعینات کر دیے ہیں۔ دو Rosatom کے طیارے روغچیفو ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ رسد کی فراہمی کے لیے مال بردار جہازوں کی آمدورفت بڑھا دی گئی ہے۔ نارویجن خبر رساں ادارے The Barents Observer کے مطابق پینکوو رینج میں کئی ہفتوں سے تیاریاں جاری ہیں۔
جغرافیائی سیاسی اثرات پر اس کا کیا پڑے گا اثر ؟
اگر 9M730 بوریویسٹنک کا کامیاب تجربہ ہوتا ہے تو روس دنیا کا پہلا ملک ہوگا جس کے پاس جوہری توانائی سے چلنے والی کروز میزائل ہوگی۔ اس سے مغربی ممالک کی فضائی دفاعی حکمت عملیاں شدید چیلنج میں آ جائیں گی۔ پیوٹن-ٹرمپ ملاقات سے پہلے یہ قدم امریکہ پر نفسیاتی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف تکنیکی مظاہرہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے کہ روس اپنی عسکری صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
