Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

دارالحکومت کیف میں نئے سال کے بعد یہ رات کے وقت ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔ ان حملوں کے باعث سیکڑوں رہائشی عمارتوں میں بجلی اور ہیٹنگ کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔ ہنگامی خدمات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں بجلی اور حرارتی سہولیات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

دنیا کی سفارتی سیاست میں اس وقت گرین لینڈ کو لے کر غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس برف پوش جزیرے کو اسٹریٹجک اہمیت کے باعث حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، تو دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس معاملے میں ایسا بیان دے کر سب کو چونکا دیا ہے جسے مبصرین ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دے رہے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو لے کر عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ مسلسل گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات دے رہا ہے، تو دوسری جانب ڈنمارک اس معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اسی دوران روس اور چین بھی اس خطے میں بڑھتی امریکی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان یورپی یونین نے اپنے تمام سفیروں کی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیر اتوار کو ایک ایمرجنسی اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔ قبرص، جس کے پاس چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی باری باری صدارتی ذمہ داری ہے، نے ہفتہ کی رات دیر گئے بتایا کہ اس نے اتوار کے روز یہ اجلاس بلایا ہے۔

امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے روسی صدر کو بھی اسی طرح گرفتار کرنے کا اشارہ دیا۔

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

زیلنسکی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ خارکیف پر روس کا یہ ایک گھناؤنا حملہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو میزائل ایک عام رہائشی علاقے میں گرے، جس سے ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔