Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔

نومبر کے بعد پہلی بار روسی تیل کی ڈلیوری لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق روسی یورالز کروڈ مارچ اور اپریل کی ابتدا میں برینٹ سے 4-5 ڈالر زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، حالانکہ فروری میں یہی تیل برینٹ سے 13 ڈالر سستا تھا۔

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، جو اب پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی سیاست اور سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔ روس کے نقطۂ نظر سے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش ایک بڑا سبب ہے، جس سے اس کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بس ٹرنیوکاکس بے کے قریب چل رہی تھی، جو فرنٹ لائن سے تقریباً پینسٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حملے کی شدت کے باعث بس کو شدید نقصان پہنچا اور موقع پر ہی کئی افراد کی موت ہوگئی۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

۔ بیسنٹ نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے یورپی ممالک دراصل اسی جنگ کو فنڈ کر رہے ہیں، جس کے اثرات انہیں خود بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکہ نے روسی توانائی سے خود کو الگ کرنے کے لیے سخت اقتصادی فیصلے کیے ہیں اور پابندیوں کے باعث زیادہ سیاسی و معاشی بوجھ بھی برداشت کیا ہے،

دارالحکومت کیف میں نئے سال کے بعد یہ رات کے وقت ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔ ان حملوں کے باعث سیکڑوں رہائشی عمارتوں میں بجلی اور ہیٹنگ کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔ ہنگامی خدمات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں بجلی اور حرارتی سہولیات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

جی 20 میں شامل یورپی ممالک نے امریکی منصوبے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مسودہ باہمی بات چیت کی بنیاد کے طور پر کام کر سکتا ہے، لیکن کئی اہم نکات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

یوکرین کی فضائیہ نے اطلاع دی ہے کہ روسی میزائل کیف اور کئی دیگر علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا۔حال ہی میں روس نے یوکرین کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔