Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War

پوتن نے دعویٰ کیا کہ اگر 2022 میں ٹرمپ صدر ہوتے تو یوکرین جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔ ان کے مطابق، ٹرمپ کا رویہ "دوستانہ اور قابلِ اعتماد" تھا، جس کے لیے انہوں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ٹرمپ نے فاکس ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روسی صدر کے ساتھ کسی معاہدے کی امید ظاہر کی ہے۔ وہیں پوتن کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ مخلص کوشش کر رہے ہیں۔

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

بھارت کی اس حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ نے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پر تنقید کی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:"اس ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ہم کچھ زمین واپس لیں گے، کچھ تبادلے ہوں گے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔"

جمعرات کے روز روس نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ روس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شیلنگ اور ڈرون حملوں میں 7 افراد ہلاک اور 120 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "بھارت کسی بھی یکطرفہ پابندیوں کے اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہم ایک ذمہ دار کردار ہیں اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

دنیا میں جنگ کی موجودہ صورتحال پر گڈکری نے ہندوستان کو بدھ کی سرزمین بتاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سچائی، عدم تشدد اور امن کا پیامبر رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بھارت عالمی فورمز پر امن اور ہم آہنگی کی کوششوں کی قیادت کرے۔

یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ایئر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔

یوکرین نے اتوار کے روز روس پر اپنے سب سے بڑے ڈرون آپریشن کا آغاز کیا، جس نے یوکرین کی سرحد سے ہزاروں کلومیٹر دورمشرقی سائبیریا میں واقع ایک اڈے پر حملہ کیا۔