Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War

ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کی کوششوں کے درمیان منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے خلاف مسلسل فوجی کارروائی پر سخت سرزنش کی۔

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سیبیہا نے کہا کہ ملک کی فضائی دفاع نے رات بھر روس کے فضائی حملوں کو روکنے کے لیے "بغیر رُکے" کام کیا۔ انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں پر مہلک ڈرونز اور میزائل داغ رہا ہے۔

یوکرین کے دفاعی دستہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 88 ڈرونز مار گرائے ہیں جبکہ 128 نقلی ڈرونز بغیر کسی کو نقصان پہنچائے گر گئے۔ کیف اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 9 گھنٹے تک فضائی حملے کی وارننگ جاری رہی۔ یوکرین کے ڈس انفارمیشن سینٹر کے سربراہ آندرئی کوولینکو نے کہا، ’’روس نے ہمیشہ بات چیت کے وقت دھمکانے کے لیے جنگ کا سہارا لیا ہے۔

استنبول میں روسی قونصل خانے کے باہر سفارت کار نے کہا کہ روس استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو 2022 میں تعطل کا شکار امن عمل کے ’تسلسل‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہماری ٹیم کا بنیادی مقصد تنازعہ کی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز ایسٹر کے موقع پر 30 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ،لیکن اتوار 20 اپریل کو لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باوجود، اسی دن روس اور یوکرین نے قیدیوں کا تبادلہ کیا، دونوں فریقوں نے 246 گرفتار فوجیوں کی واپسی کی تصدیق کی۔ زیلنسکی نے کہا کہ اب تک رہا کیے گئے یوکرینی جنگی قیدیوں کی کل تعداد 4,552 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق دو بیلسٹک میزائل صبح تقریباً 10:15 بجے شہر کے قلب میں اس وقت گرے جب لوگ پام سنڈے منانے کے لیے جمع تھے۔

 انہوں نے کہا، "آپ یوکرین کو کچھ ایسا بنا سکتے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد برلن میں ہوا تھا، جہاں ایک حصہ روسی کنٹرول میں تھا، دوسرا فرانسیسی، برطانوی اور امریکی کنٹرول میں تھا۔"

یوکرین میں روس کے حملے مسلسل جاری ہیں اوراس بار مڈس یوکرین کے کروی ریہ شہر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کم ازکم 14 لوگوں کی موت ہوگئی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ مہلوکین میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ ملبے کے نیچے ابھی بھی کئی لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مہلوکین کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے۔

امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔