Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War

پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ اور سکریٹری آف اسٹیٹ Władysław Teofil Bartoszewski نے پیر کو یہ انکشاف کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہ کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

جنگ بندی کی بات چیت کے درمیان روس اور یوکرین نے ہفتے کو رات بھر ایک دوسرے پر شدید فضائی حملے کیے۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے علاقوں میں دشمن کے 100 سے زیادہ ڈرونز کی اطلاع دی ہے۔

سفارتی کوششوں کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کا دور ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ روس یوکرین میں جنگ بندی ہو۔

ایک مشترکہ بیان میں امریکہ اور یوکرین نے کہا ہے کہ یوکرین سعودی عرب میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران روس کے ساتھ تنازعہ میں فوری طور پر 30 روزہ جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ اب اس پیشکش کو روسیوں کے پاس لے جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب معاملہ ماسکو کے ہاتھ میں ہے۔

ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے کہا کہ کم از کم 60 ڈرون جب شہر کی طرف بڑھے تو انہیں تباہ کر دیا گیا۔

خلا سے حاصل تصاویر کیف کے ٹول باکس میں ایک اہم ہتھیار رہی ہیں۔ ان کا استعمال جاسوسی ڈرون مشنوں کی منصوبہ بندی کرنے، ٹینکوں اور گاڑیوں کے روسی ذخائر کو تلاش کرنے اور روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں حملوں کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے، میں اس پر غور کر رہا ہوں اور کچھ لوگ اسے مناسب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے اور میں اس بارے میں جلد فیصلہ کروں گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

جمعے کے روز بات چیت کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑے تصادم کے بعد زیلنسکی نے ٹرمپ سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔

جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کچھ اچھا نہیں ہوا۔ واشنگٹن ڈی سی میں اوول آفس میں دونوں سربراہان مملکت کے درمیان شروع ہونے والی یہ بات چیت جلد ہی گرما گرم بحث میں بدل گئی۔