روس اور امریکہ کے مابین ایک دوسرے پر پابندیوں کا دور جاری ہے۔ اسی ضمن میں آج امریکی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے روس نے قریب پانچ سو امریکی شخصیات پر پابندی لگادی ہے جو اب روس میں داخل نہیں ہوپائیں گے۔ روس کی جانب سے جن 500 امریکیوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ان میں امریکہ کے سابق صدر براک حسین اوبامہ کا نام بھی شامل ہے۔ جبکہ اکثریت امریکی ایگزکیٹیو برانچ کے ممبران ہیں جنہیں روس نے اپنے ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی ہے۔ روس کے اس قدم کو امریکہ کے اس فیصلے کا جواب مانا جارہا ہے جس میں امریکہ نے روس کی سینکڑوں کمپنیوں اور شخصیات کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔روس یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی امریکہ روس کی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہ رہا ہے۔ اس کیلئے پہلے بھی امریکہ روس پر کئی قسم کی پابندیاں لگا چکا ہے اور اب روس کی جانب سے جوائی کاروائی کی گئی ہے۔
روس نے امریکی صحافیوں پر بھی پابندی لگادی ہے۔ جن میں سی این این کے اینکر ایرن برنیٹ کا نام شامل ہے ۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی ممبران پارلیمنٹ اور تھینک ٹینک کے ممبران کو روس کے خلاف پروپگنڈہ کا حصہ بننے کی وجہ سے بلیک لسٹ کیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتارامریکی صحافی ایوان گرشکویچ کو قونصلر کی سہولیات فراہم کرنے سے بھی انکار کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات ان دنوں اپنے خراب ترین دور سے گزررہے ہیں ۔روسی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ایک بیان میں اس پابندی سے متعلق تفصیلات پیش کی ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جن 500امریکیوں پر پابندی لگائی گئی ہے،وہ تمام ایسے سرکاری لوگ ہیں جنہوں نے روس کے خلاف مہم سازی کی ہے اورروس یوکرین جنگ میں یوکرین کی حمایت کیلئے روس کے خلاف پروپگنڈہ پھیلانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
آپ کو بتادیں کہ روس یوکرین کی جنگ دراصل روس امریکہ کی جنگ بنتی چلی جارہی ہے ۔ایک طرف جہاں روس کو کمزور کرنے کیلئے امریکہ یوکرین کی بھرپور مدد کررہا ہے، وہیں دوسری جانب روس کے خلاف عالمی گھیرابندی میں بھی امریکہ کا قائدانہ رول نظرآرہا ہے ،نتیجے میں نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ اور یوروپین یونین نے بھی روس کے اوپرطرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
