Bharat Express DD Free Dish

USA

ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن چین کے ساتھ تجربے نے یہ ظاہر کیا کہ صرف دباؤ بڑھانے سے ہر مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔ چین برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی مصنوعات دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

کارنی کے مطابق مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کینیڈا کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ امریکی ٹیرف کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا امریکا کے نئے محصولات کا جواب بھی اسی قدر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف کے مقابلے میں کینیڈا بھی ڈالر بہ ڈالر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

صدر پزشکیان نے بعض سیاسی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرنے اور قومی فیصلوں پر سوال اٹھا کر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا ایک وفد ہفتے کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

حکام نے واضح کیا کہ فی الحال عام شہریوں کے لیے کسی بڑے خطرے کی اطلاع نہیں ہے، پھر بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر لوگوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

شکاگو میں قائم بھارتی قونصل خانے نے طالبہ کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ قونصل خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ شکاگو کے قریب پیش آنے والے سڑک حادثے میں بھارتی طالبہ نویا گڈوسو کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔