Bharat Express DD Free Dish

Three planes enter restricted airspace: ڈونلڈ ٹرمپ کے ریزورٹ کے قریب فضائی حدود میں داخل ہوئے تین طیارے، مچا ہڑکمپ

نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے ان خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں۔ جس میں فلیرز کا استعمال کیا گیا۔ فلیرز کا استعمال عام طور پر ہوائی جہاز کو بغیر کسی نقصان کے محدود فضائی حدود سے باہر نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ریزورٹ کے قریب فضائی حدود میں داخل ہوئے تین طیارے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا کے سیاحتی مقام مارے لاگو میں محدود فضائی حدود کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تین شہری طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جنہیں مبینہ طور پر F-16 لڑاکا طیاروں نے علاقے سے باہر نکال دیا۔

فضائی حدود کی خلاف ورزی کی وجہ سے، نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے فوری طور پر لڑاکا طیارے روانہ کیے تاکہ شہری طیاروں کو علاقے سے باہر لے جا سکے۔ یہ واقعات صبح 11:05، 12:10 اور دوپہر 12:50 پر پیش آئے، حالانکہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

اس طرح کی خلاف ورزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں میں اس طرح کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں فضائی حدود کی خلاف ورزیاں ایک پیٹرن بن چکی ہیں۔ خلاف ورزیاں کئی اہم تاریخوں کے آس پاس ہوئیں۔ مثال کے طور پر، 15 فروری کو دو خلاف ورزیوں کی اطلاع دی گئی تھی، اور ایک اور خلاف ورزی 17 فروری کو، یوم صدارت پر پیش آئی تھی۔

نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے ان خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں۔ جس میں فلیرز کا استعمال کیا گیا۔ فلیرز کا استعمال عام طور پر ہوائی جہاز کو بغیر کسی نقصان کے محدود فضائی حدود سے باہر نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ واقعات مارے لاگو جیسے ہائی پروفائل مقامات کے ارد گرد فضائی حدود کے انتظام میں جاری حفاظتی خدشات کو اجاگر کرتے ہیں۔ حالانکہ، بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی گئی۔

ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ حادثاتی تھیں یا جان بوجھ کر۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read