Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine War: جنگ بندی کی بات چیت کے درمیان روس اور یوکرین کا ایک دوسرے پر بڑا فضائی حملہ

جنگ بندی کی بات چیت کے درمیان روس اور یوکرین نے ہفتے کو رات بھر ایک دوسرے پر شدید فضائی حملے کیے۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے علاقوں میں دشمن کے 100 سے زیادہ ڈرونز کی اطلاع دی ہے۔

تصویر بشکریہ روئٹرز۔

جنگ بندی کی بات چیت کے درمیان روس اور یوکرین نے ہفتے کو رات بھر ایک دوسرے پر شدید فضائی حملے کیے۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے علاقوں میں دشمن کے 100 سے زیادہ ڈرونز کی اطلاع دی ہے۔ یہ حملہ یوکرین کے ساتھ 30 دن کی جنگ بندی کی امریکی تجویز پر تبادلۂ خیالا کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے ملاقات کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ہوئے ہیں۔ وولگوگریڈ کے علاقائی گورنر آندرے بوچاروف نے تصدیق کی کہ ڈرونز کے گرنے سے شہر کے کراسنوارمیسکی ضلع میں لُک آئل آئل ریفائنری کے قریب آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق قریبی ہوائی اڈوں نے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔ اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ وولگوگریڈ ریفائنری کو اس جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی مواقع پر یوکرین کی افواج نے نشانہ بنایا ہے۔ حال ہی میں 15 فروری کو بھی اس جگہ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔

دونوں ممالک نے جاری کیے بیانات

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین کے 126 ڈرون مار گرائے ہیں، جن میں سے 64 وولگوگریڈ کے علاقے میں تباہ ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ دوسرے علاقوں میں کافی ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔ دریں اثنا یوکرین کی فضائیہ نے ہفتے کے روز کہا کہ روس نے راتوں رات ملک پر 178 ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ یوکرین نے کہا ہے کہ اس نے تقریباً 130 ڈرون مار گرائے ہیں، جب کہ 38 کو ان کے ہدف سے بھٹکا دیا ہے۔

یوکرین کی نجی توانائی کمپنی DTEK نے کہا کہ روس نے ہماری توانائی تنصیبات پر حملہ کیا ہے، جس سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ DTEK نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ روس نے Dnipropetrovsk اور Odesa علاقوں میں توانائی کے تنصیبات کو نشانہ بنایاہے۔ جس کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ کمپنی نے مزید کہا ’’نقصان اہم ہے۔ ہمارے کارکن اس پر لگاتار کام کر رہے ہیں۔ ہم جلد از جلد گھروں کے لیے بجلی بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔