Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine Crisis

روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد یہ روس کا پہلا پارلیمانی انتخاب ہے۔ اس بار مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ کرائی جا رہی ہے، جس نے انتخابات کو روس-یوکرین جنگ اور علاقائی تنازع سے براہِ راست جوڑ دیا ہے۔

یوکرین نے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایک بڑی آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی دفاعی نظام نے ہفتے سے اب تک 1600 سے زائد ڈرونز کو روکا، جن میں 450 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر زیلینسکی ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مالدووا سے اوسلو روانہ ہو رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا خصوصی طیارہ آسمان میں بلند ہوا، ایک مشتبہ ڈرون اچانک طیارے کے انتہائی قریب آ گیا۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈرون طیارے سے کتنی دوری پر تھا، تاہم اس غیر متوقع ڈرون خطرے کے باعث زیلینسکی کی پرواز کو کئی گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

ماسکو کے قریب یوکرین کے بڑے ڈرون حملے کے بعد روس نے بیلسٹک میزائلوں سے جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ لاجسٹک مراکز اور تیل کے ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔

یوکرین نے روس کے توآپسے پورٹ پر بڑا ڈرون حملہ کیا، جس سے تیل کے ٹرمینل اور ریفائنری کو شدید نقصان پہنچا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے یوکرین کو ٹوماہاک میزائلیں دینے کے بارے میں اپنے سابقہ ​​موقف کو پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ انہیں ٹوماہاک میزائلوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

روس کے صدر کے علاوہ یوکرین کے صدر بھی ہندوستان کا دورہ کریں گے۔ دونوں رہنماوں کے الگ الگ دوروں کی تیاریاں تیز کردی گئیں ہیں ۔غالب امکان ہےکہ پوتن سے پہلے زیلنسکی کا دورہ ہو۔حتمی شیڈول اور اعلان ابھی باقی ہے۔

الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان حالیہ ملاقات یوکرین جنگ کے پرامن حل کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام تھا۔