Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine Crisis

بھارت میں اس ممکنہ پابندی کے اشاروں کو ’’دباؤ کی سیاست‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عوامی سطح پر قومی خودمختاری کے بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔

سٹارووئٹ کے ممکنہ جانشین کے طور پر نائب وزیر ٹرانسپورٹ اینڈری نیکیٹن کا نام زیر گردش ہے، جو اس سے قبل نووگوروڈ اوبلاست کے گورنر رہ چکے ہیں۔ سٹارووئٹ کی برطرفی روس کی اندرونی سیاست اور جاری روس-یوکرین تنازع کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے روسی صدر کو گمراہ قرار دیا۔ جہاں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے بحران کو حل کرنا ان کے ابتدائی اندازے سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔

گزشتہ دو سالوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی جنگوں اور تنازعات نے نہ صرف سفارتی ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے بلکہ انسانیت کے وجود پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سیبیہا نے کہا کہ ملک کی فضائی دفاع نے رات بھر روس کے فضائی حملوں کو روکنے کے لیے "بغیر رُکے" کام کیا۔ انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں پر مہلک ڈرونز اور میزائل داغ رہا ہے۔

امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔

جنگ بندی کی بات چیت کے درمیان روس اور یوکرین نے ہفتے کو رات بھر ایک دوسرے پر شدید فضائی حملے کیے۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے علاقوں میں دشمن کے 100 سے زیادہ ڈرونز کی اطلاع دی ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں امریکہ اور یوکرین نے کہا ہے کہ یوکرین سعودی عرب میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران روس کے ساتھ تنازعہ میں فوری طور پر 30 روزہ جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ اب اس پیشکش کو روسیوں کے پاس لے جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب معاملہ ماسکو کے ہاتھ میں ہے۔

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد بھی ایسے بیانات آتے رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب یوکرین کو مزید مدد دینے کے حق میں نہیں ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیراعظم نے ایک بار پھر یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ برطانیہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔