Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine Crisis

اگلے ہفتے روس کی طرف سے یوکرین پر کیے گئے مکمل فوجی حملے کو تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ماسکو کا مشرقی ڈونباس کے علاقے کے ایک بڑے حصے پر قبضہ برقرار ہے۔ روسی افواج نے حال ہی میں کوراخوف قصبے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شمال مشرق میں پوکروسک شہر کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یورپ، امریکہ اور اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم اس جنگ کو منصفانہ اور دیرپا امن کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ حالانکہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے یورپی اتحادیوں اور یوکرین کو چونکاتے ہوئے پوتن کو فون کیا اور امن مذاکرات کے فوری آغاز کا اعلان کیا۔

خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ملاقات کے حوالے سے یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر 90 منٹ کی گفتگو کے بعد کیا۔

رندھیر جیسوال نے کہاکہ روسی فوج میں 18 ہندوستانی شہری باقی ہیں اور ان میں سے 16 لاپتہ ہیں۔ روسی فریق نے انہیں لاپتہ قرار دیا ہے۔ ہم ان کی جلد رہائی اور ملک واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گورنر ایوان فیڈروف نے بتایا کہ روسی افواج نے دوپہر کے وقت ایک رہائشی علاقے پر بمباری کی اور حملے میں دو رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس سے قبل بدھ کے روز یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ اس نے روس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے، جس میں روس کے ذریعہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر لگی پابندی کو کم کیا گیا۔

روس کی فوج نے کہا ہے کہ یوکرین نے امریکی دور مار میزائلوں سے سرحدی خطے بریانسک میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے، امریکی حکام کی جانب ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دشمن نے صبح 3 بجکر 25 منٹ پر بریانسک میں ایک تنصیب کو 6 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے یوکرین کو روس کے خلاف امریکی اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی، امریکا کی جانب سے یوکرین کو دیے گئے میزائل 300 کلومیٹر تک باآسانی ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

بلاگر نے کہا کہ حال ہی میں شہر کے قریب ایک بارودی سرنگ پر ایک پہاڑی پر شمالی کوریا کا جھنڈا بلند کیا گیا تھا، یہ ان مشتبہ مقامات میں سے ایک ہے جہاں شمالی کوریا کے فوجیوں کے تعینات ہونے کا شبہ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جب مارکیٹ پر قبضہ کرنے میں تحمل کا فقدان ہوتا ہے تو اس سے دوسروں کی روزی روٹی اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے آب و ہوا کی ذمہ داریوں سے گریز ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے امکانات کو کمزور کر دیتا ہے۔