پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ اور سکریٹری آف اسٹیٹ Władysław Teofil Bartoszewski نے پیر کو یہ انکشاف کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہ کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پولینڈ روس-یوکرین جنگ میں ہندوستان کے اس کردار کے لیے ’’مشکور‘‘ ہے۔ ولادسلاو ٹافل نے سی این این نیو 18 کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’’وزیر اعظم نے وارسا کا ایک بہترین دورہ کیا تھا۔ انھوں نے پوتن کو اس بات کے لیے راضی کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہ کریں۔ ہم مکمل امن چاہتے ہیں۔ ہم یوکرین میں مستحکم اور مستقل امن کے خواہاں ہیں۔‘‘
پولش وزیر خارجہ کا یہ بیان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جب وزیر اعظم مودی نے لیکن فریڈمین کے ساتھ پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ امن صرف مذاکرات کی میز پر بحال ہو سکتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے مذاکرات میں شامل ہونے پر زور دیا تھا۔ وزیر اعظم نے پوڈکاسٹ میں کہا تھا ’’میرے روس اور یوکرین کے ساتھ یکساں قریبی تعلقات ہیں۔ میں صدر پوتن کے ساتھ بیٹھ کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے اور میں صدر زیلنسکی سے بھی دوستانہ انداز میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ بھائی! دنیا میں جتنے بھی لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، حل میدانِ جنگ میں کبھی نہیں نکلے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’حل تبھی نکلے گا جب یوکرین اور روس دونوں مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے۔ یوکرین اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہزاروں بار مذاکرات کر سکتا ہے، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ مذاکرات دونوں فریقین کے مابین ہونے چاہئیں۔ شروع میں امن کی تلاش مشکل تھی۔ لیکن موجودہ صورت حال روس اور یوکرین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے مواقع فراہم کرتی ہے۔‘‘
جنگ کے بارے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا ’’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں امن کے ساتھ کھڑا ہوں، میرا ایک موقف ہے اور وہ امن ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ عالمی تنازعات اس لیے بڑھ رہے ہیں کیوں کہ ماضی کی طاقتور بین الاقوامی تنظیمیں اس وقت تقریباً غیرمتعلق ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا ’’بین الاقوامی ادارے جو کبھی طاقتور تھے، تقریباً غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنے کردار کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔‘‘ دریں اثناء بارٹوزوزکی نے کہا کہ پولینڈ نے ’’جنگ کے آغاز سے ہی‘‘ یوکرین کی مدد کی ہے۔ ہمارے یہاں یوکرین سے پولینڈ آنے والے ہزاروں تارکین وطن ہیں۔ ہم امن قائم رکھنے والی فوج اور فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


