واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف ’’فوراً گولی باری بند کر دینی چاہیے۔‘‘ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مختصر پیغام میں دونوں فریقوں سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد اتوار کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی تہران کے متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنا ردعمل دے دیا ہے، اب اسے مزید کارروائی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ایران سے یہی کہوں گا کہ آپ اپنی میزائل کارروائی کر چکے ہیں، اب بس کیجیے، مذاکرات کی طرف واپس آئیے اور معاہدہ کیجیے۔‘‘
’’معاہدہ قریب تھا، لیکن صورتحال بدل گئی‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں سے قبل امریکہ اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ ان کے مطابق، ’’ہم معاہدے کے انتہائی قریب تھے۔ میرا خیال ہے کہ آنے والے ہفتے کے دوران پیر، منگل یا بدھ تک کسی سمجھوتے پر دستخط ہو سکتے تھے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔‘‘ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور انہیں جوابی حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں ابھی نیتن یاہو کو فون کرنے والا ہوں اور ان سے کہوں گا کہ مزید جوابی کارروائی نہ کریں۔ اسرائیل اور ایران دونوں اپنا ردعمل دے چکے ہیں، اب مزید تصادم کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


