US-Iran’s Historic MoU: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کو بتایا ’’تاریخی دستاویز‘‘، کہا-’’باہمی احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد‘‘
تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔
US-Iran Agreement: امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بتایا اہم، کہا-’’معاہدے سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہوگی کم اور عالمی توانائی سپلائی کو ملے گا استحکام‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
US-Iran Agreement: امریکہ-ایران امن معاہدے کا وزیراعظم مودی نے کیا خیرمقدم، کہا-’’معاہدے پرعمل درآمد سے عالمی تجارت اور سمندری راستوں پر نقل و حرکت ہوگی بحال
وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی سمجھ بوجھ ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی توقع ہے۔
Neither War Nor Peace Policy: ملک کے مفاد میں نہیں ہے جنگ لیکن دباؤ میں کبھی نہیں جھکے گا ایران، نہ جنگ، نہ امن کی پالیسی سے ہمیں نکلنا ہوگا باہر: صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
Israel-Iran War: ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل اور ایران سے فوری جنگ بندی کی اپیل، دونوں فریقوں سے تحمل برتنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ
اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔
US-Iran peace talks: امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے کوششیں جاری، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
Diplomatic Outreach: پچھلے 48 گھنٹوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی 8 ممالک کے لیڈروں سے بات چیت، خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران امن کی اپیل
بھارت کی جانب سے یہ مسلسل سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن، استحکام اور وہاں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
US-Israel Iran Conflict: مشرق وسطیٰ کشیدگی پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان، ایک کروڑ بھارتی شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح
وزارت خارجہ کی فوری جنگ بندی، مکالمے اور سفارت کاری کی اپیل۔ بیان میں کہا گیا کہ 28 فروری 2026 کو ایران اور خلیجی خطے میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد بھارت نے تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور عام شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی، تاہم رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
No threat to Indian citizens in Iran: ایران میں بھارتی شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں، صورتحال قابو میں ہے: ایرانی سفیر محمد فتح علی
ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں پرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کا اظہار ایک قانونی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت، بشمول صدر مملکت، عوام کی بات قانون کے دائرے میں سننے پر زور دیتی رہی ہے۔
Pakistan, Afghanistan agree to 48-hour ceasefire: سرحدی جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد پاکستان اور افغانستان میں 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔





