Bharat Express DD Free Dish

Regional Stability

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی سمجھ بوجھ ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی توقع ہے۔

ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

اس دوران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں، جوابی فوجی کارروائیوں اور وسیع علاقائی جنگ کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ صورتحال حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں نہ روکنے کا نتیجہ ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

بھارت کی جانب سے یہ مسلسل سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن، استحکام اور وہاں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔

وزارت خارجہ کی فوری جنگ بندی، مکالمے اور سفارت کاری کی اپیل۔ بیان میں کہا گیا کہ 28 فروری 2026 کو ایران اور خلیجی خطے میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد بھارت نے تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور عام شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی، تاہم رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں پرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کا اظہار ایک قانونی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت، بشمول صدر مملکت، عوام کی بات قانون کے دائرے میں سننے پر زور دیتی رہی ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔