واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کی رات اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ وفد اس ہفتے ایران کے ساتھ بات چیت کرے گا اور سفارتکاری کو ایک ’’آخری موقع‘‘ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر نکات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے اور ایران کو اب صرف معاہدے پر دستخط کرنا ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھولنا ہوگا۔
ایران کے لیے سخت وارننگ
امریکی صدر نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے صحافی ٹری ینگسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کے لیے ’’آخری موقع‘‘ ہے اور وہ سابق صدر کی طرح کوئی ’’غلطی‘‘ نہیں دہرائیں گے۔
جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی گئی، جس میں ایک فرانسیسی جہاز اور برطانیہ کے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس آبی گزرگاہ کی بندش سے ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ کو اس سے کوئی خاص نقصان نہیں ہو رہا۔
تعطل، مذاکرات اور غیر یقینی صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے ابھی تک اس نئے مذاکراتی منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ سی این این کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جہاں ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


