Bharat Express DD Free Dish

US Iran Deal

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو نشانے پر لیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے میں پاکستان کی ثالثی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے، جو بھارت کے لیے تشویش کا موضوع ہونا چاہیے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے اور 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر دستخط کی تجویز سامنے آئی ہے، لیکن اس معاہدے کی کامیابی ابھی بھی کئی بڑے سوالات کے گھیرے میں ہے۔ ایک طرف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں اچانک تبدیلی نے حیران کیا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل کے سخت مؤقف نے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی سمجھ بوجھ ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی توقع ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

جولائی کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں شامل اضافی رسک پریمیم میں کمی آئی ہے کیونکہ سفارتی حل کی امیدیں مضبوط ہوئی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں ابھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔