Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Peace Talks: امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کا امکان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا دعویٰ

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ اپنی تکمیل کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کی قیادت کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی معاہدہ دیرپا امن کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا خیرمقدم

دریں اثنا پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اگنازیو کاسیس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب بڑھتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیں گی۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری اور پابندیوں میں نرمی

ادھر امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ عہدیدار کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی نرمی کو سخت نگرانی، تصدیقی عمل اور بین الاقوامی معائنوں سے مشروط رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مجوزہ معاہدے کو خطے کے اہم شراکت داروں بشمول اسرائیل اور خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

خطے میں امن کی نئی امید

امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ تاہم اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو متعلقہ ممالک اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں آئندہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read