US-Iran Peace Talks: امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کا امکان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا دعویٰ
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔
Talks between Iran-US: ایران اور امریکہ کے درمیان اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کا امکان، امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ
وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کرسکتا ہے۔
Iran Offers US New Proposal: آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی امریکہ کو نئی پیشکش، جوہری پروگرام کے معاملے پر تعطل برقرار
امریکی میڈیا کے مطابق اس تجویز کا بنیادی مقصد جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام ایرانی قیادت کے اندر جوہری رعایتوں کے دائرہ کار پر جاری اختلافات کو وقتی طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش بھی ہے۔
Iranian delegation exits Islamabad: پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو دھچکا، اسلام آباد میں سفارتی کوشش ناکام، ایرانی وفد کی روانگی سے امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
US-Iran Talks: امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع، اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود رابطے برقرار، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پیش رفت کی امید
پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
US-Iran Talks: اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، 21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود تعطل برقرار، امریکہ نے کہا ایران نے شرائط قبول نہیں کیں
واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔





