Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Talks: امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع، اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود رابطے برقرار، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پیش رفت کی امید

پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی جنگ بندی کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی اسلام آباد میں ہی منعقد ہو سکتا ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ عارضی جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ہی بات چیت کا نیا دور شروع ہو جائے۔

پہلا دور کیوں ناکام ہوا؟

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی بات چیت میں کوئی منفی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور مجموعی طور پر حالات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مرحلے کے مذاکرات میں، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ ’’حتمی اور بہترین پیشکش‘‘ کو ایران نے قبول نہیں کیا، جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

مذاکرات کا پس منظر

یہ مذاکرات 1979 کے بعد پہلی بار اس سطح پر ہوئے تھے، تاہم مستقل امن معاہدہ طے نہ ہو سکا۔ اب دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ کشیدگی میں کمی لاتے ہوئے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کا اگلا دور کامیاب رہا تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بصورت دیگر کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ اسلام آباد پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اس مرحلے میں امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے مؤقف واضح کیے اور مذاکرات کے بنیادی نکات طے کیے۔ اب متوقع دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ اگر دونوں فریق لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ مذاکرات کسی بامعنی پیش رفت یا عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read