Bharat Express DD Free Dish

diplomatic talks

وزیر اعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کینیڈا سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وفد کی سطح پر ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی، توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان ممالک کے ساتھ بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ پیرس میں مقیم بھارتی برادری کے افراد سے ملاقات کے بھی خواہش مند ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط سماجی اور ثقافتی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ بھارت، یورپ اور جی-7 ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ عالمی بھلائی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔