Bharat Express DD Free Dish

diplomatic talks

وزیردفاع محمد یعقوب مجاہد نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول کے مطابق ہوگی اور افغانستان، ایک آزاد ملک ہونے کے ناطے پاکستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات رکھے گا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

خبروں کے مطابق، ٹرمپ ٹیرف کا اثر بھارت کے 55 فیصد مصنوعات کے برآمدی شعبے پر پڑ سکتا ہے۔ ان میں کپڑا، چمڑے کی مصنوعات، زیورات، کھلونے، کیمیکلز، مشین ٹولز، پلاسٹک اور سمندری مصنوعات شامل ہیں۔

صدر زیلنسکی نے کہا ’’ہم نے روس کے خلاف پابندیوں پر بھی تفصیل سے بات کی۔ یہ ضروری ہے کہ ہر وہ رہنما جس کے پاس روس پر اثر انداز ہونے کی حقیقی صلاحیت ہے، ماسکو کو درست پیغام دے۔‘‘