Bharat Express DD Free Dish

diplomatic talks

بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

وفد نے ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے کو جنگ کے پیش نظر انسانی مدد کے لیے نوگانواں سادات کے افراد کی طرف سے رقم ہدیہ کی۔ وفد نے ایرانی رہبراعلیٰ کو شہید کیے جانے کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت کی۔

یہ ملاقات بھارت اور فرانس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جو مستقبل میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جوابی کارروائی میں ایران نے خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد 22 دن گزرنے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔

وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، اسرائیل، سعودی عرب، اردن، بحرین، عمان، کویت اور قطر کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔ ان گفتگوؤں کے دوران انہوں نے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں دریافت کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے اور مختلف خطوں میں تنازعات جاری ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارت اور یورپ کے درمیان تعلقات ایک سنہری دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یوکرین سے مغربی ایشیا تک تنازعات کے خاتمے کی حمایت۔

وزیردفاع محمد یعقوب مجاہد نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول کے مطابق ہوگی اور افغانستان، ایک آزاد ملک ہونے کے ناطے پاکستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات رکھے گا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔