نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے مغربی ایشیا میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مسئلے کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جلد از جلد امن اور استحکام کی بحالی کے لیے قریبی رابطہ اور باہمی ہم آہنگی جاری رکھی جائے گی۔
Spoke with my friend President Emmanuel Macron today. We discussed our shared concerns over the evolving situation in West Asia and the need for a return to dialogue and diplomacy. We will continue to engage closely and coordinate efforts towards the early restoration of peace…
— Narendra Modi (@narendramodi) March 5, 2026
خطے کے رہنماؤں سے مسلسل رابطہ
2 اور 3 مارچ کے درمیان وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، اسرائیل، سعودی عرب، اردن، بحرین، عمان، کویت اور قطر کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔ ان گفتگوؤں کے دوران انہوں نے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں دریافت کیا۔ یہ سفارتی رابطے اس وقت جاری ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اتوار کو وزیراعظم مودی نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور خطے میں فوری طور پر تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی اپیل دہرائی۔
میکرون کا خطاب اور عالمی ردعمل
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کو قوم سے خطاب میں کہا کہ موجودہ صورتحال کے لیے ایران بنیادی طور پر ذمہ دار ہے، جس نے خطرناک جوہری پروگرام اور جدید بیلسٹک صلاحیتیں تیار کیں اور پڑوسی ممالک میں مسلح گروہوں کی مدد کی۔ تاہم انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر قرار دیا اور جرمنی و برطانیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کے جلد خاتمے اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز امریکی اور اسرائیلی افواج کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




