Bharat Express DD Free Dish

Strategic Partnership

بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاعی تعاون، کنیکٹیویٹی اور بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے کے تناظر میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی ذرائع کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

بشکیک میں وزیراعظم مودی کی شرکت سے ایس سی او اور وسطی ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس سال اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔

دوطرفہ مذاکرات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور ازبکستان نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں اور دونوں جانب کی ٹیمیں بھی ان فیصلوں پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کے تمام پہلوؤں کو مؤثر سمت دینے کے لیے وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک کوآرڈینیشن کونسل تشکیل دی جائے گی۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ معاہدہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ دفاعی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے دوران متعدد حملوں کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو مزید وسیع کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلوی یورینیم کی برآمد، خلائی تعاون، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ہند-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔