Bharat Express DD Free Dish

conflict resolution

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ وہ مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان سے متعدد بار بات چیت کر چکے ہیں اور ہندوستان مسلسل ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ ہندوستانی بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، اسرائیل، سعودی عرب، اردن، بحرین، عمان، کویت اور قطر کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔ ان گفتگوؤں کے دوران انہوں نے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں دریافت کیا۔

یہ پیش رفت چھتیس گڑھ میں بائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف ایک سنگ میل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں 17 اکتوبر کو بَستر کے جگدلپور میں 208 نکسل کارکنان نے بھارتی آئین اٹھا کر مرکزی دھارے میں واپسی اختیار کی تھی۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات عملاً منقطع ہو چکے ہیں۔ فی الحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت دوبارہ تصادم بھڑک سکتا ہے‘‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت نہایت نازک مرحلے میں ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفل کا کہنا ہے کہ مودی کی پوتن سے ملاقات میں امن معاہدے پر زور دینا یورپ کے لیے اہم پیش رفت ہے، چین کی جارحیت پر تشویش اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی زور

امریکی صدر نے کہا کہ جنگ ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتی ہے، یوکرین کے صدر زیلنسکی بھی معصوم نہیں — جلد حل نہ نکلا تو معاشی جنگ شروع ہو سکتی ہے

امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ روس کو چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی سازوسامان خریدنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات میں فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔