نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان عالمی سطح پر امن اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان سے دنیا کو ایک متحد پیغام جانا چاہیے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ نے عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات ہندوستان پر بھی پڑرہے ہیں۔
تجارت اور توانائی سپلائی متاثر
وزیراعظم نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں بھی خلل آیا ہے، جو معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بیرون ملک ہندوستانیوں کی سلامتی اولین ترجیح
نریندر مودی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی مقیم ہیں، جن کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد اب تک 3 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہندوستانیوں کو بحفاظت واپس لایا جا چکا ہے، جن میں ایران سے آنے والے ایک ہزار سے زائد افراد بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ وہ مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان سے متعدد بار بات چیت کر چکے ہیں اور ہندوستان مسلسل ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ ہندوستانی بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔
جنگ کے اثرات اور عالمی خدشات
واضح رہے کہ 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا تنازع اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں امریکہ بھی شامل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی، سمندری راستوں اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہونا انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں تاکہ خطے میں امن اور استحکام بحال ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


