Bharat Express DD Free Dish

Foreign Policy

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بات چیت کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر مرز کے ساتھ ان کی گفتگو دوستانہ اور بامعنی رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

بشکیک میں وزیراعظم مودی کی شرکت سے ایس سی او اور وسطی ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس سال اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔

دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر سکیورٹی انتظامات میں بڑی تبدیلی، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پاکستان کی کارروائی کے بعد بھارت کا قدم سامنے آیا، بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران اس طرح کے جوابی انتظامی اقدامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا کام دوستی نبھانا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

اعلیٰ تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور صلاحیت سازی سمیت ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور۔  آئی آئی ٹی زنجبار کو ہندوستان اور افریقہ کی تعلیمی شراکت داری کی بہترین مثال قرار دیا۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

انڈونیشیائی صدر نے بھارت کے انتخابی نظام اور جمہوری عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے الیکشن کمیشن سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی، مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود بھارت میں پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ صدر سوبیانتو نے کہا کہ وہ بھارت کی اس کامیاب جمہوری روایت اور اس کی نمایاں کامیابیوں کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، آزاد اور ضابطہ پر مبنی ہند-بحرالکاہل کے فروغ اور باہمی تعاون کے نئے باب کے آغاز کے عزم کا اعادہ کیا۔