روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرانے کی امریکی کوششیں ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، جو دوسری مدت صدارت میں جنگ بندی کا وعدہ کر چکے ہیں، الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات کے بعد بھی کوئی معاہدہ کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
یوکرین پر بھی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی
وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر جلد کوئی حل نہ نکلا تو وہ یوکرین پر بھی سخت اقتصادی پابندیاں اور ٹیرف عائد کریں گے۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں دونوں فریقوں کے لیے مہنگی ثابت ہوں گی، لیکن یہ ہی واحد راستہ ہے جس سے مزید جانوں کا نقصان روکا جا سکتا ہے۔
ہر ہفتے ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں
ٹرمپ نے کہا کہ ’’جنگ ہمیشہ دو فریق کے درمیان ہوتی ہے، ایک کو اکیلے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی بے قصور نہیں ہیں۔‘‘ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہر ہفتے ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، اس جنگ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
معاشی جنگ کا انتباہ
اگر لڑائی ختم نہ ہوئی تو دنیا کو ایک نئی قسم کی معاشی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا، جو عالمی جنگ تو نہیں ہوگی مگر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ روس کے خلاف بھی ایسے اقدامات کے حق میں نہیں ہیں جو نقصان دہ ثابت ہوں، لیکن اگر حالات نہ بدلے تو یہ ناگزیر ہوگا۔
یوکرین۔روس جنگ کا پس منظر
روس-یوکرین جنگ کا آغاز فروری 2022 میں روسی افواج کے یوکرین پر حملے سے ہوا تھا، جو بعد میں مشرقی یورپ کے سب سے بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا۔ اس جنگ میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ مغربی ممالک نے روس پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کی گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ کی ثالثی کوششوں کے باوجود پوتن اور زیلنسکی کے درمیان کوئی پائیدار امن معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق پوتن نے زیلنسکی سے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم روس کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


