بَستر کے کانکر ضلع میں اتوار کے روز 21 ماؤنوازوں نے جن میں 13 خواتین شامل ہیں، ہتھیاروں کے ساتھ خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ یہ بات بَستر کے انسپکٹر جنرل پی سندر راج نے بتائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قدم ریاست میں بائیں بازو کے شدت پسند اثرات کم کرنے میں اہم سنگ میل ہے۔
کیڈر کون تھے اور کیا ہتھیار سرنڈر ہوئے؟
سینئر پولیس افسر کے مطابق یہ کیڈر کیشکل ڈویژن (نارتھ سب زونل بیورو) کے کویماری/کسکودو ایریا کمیٹی کے رکن تھے۔ ان 21 کارکنان میں 4 ڈویژن کمیٹی کے ارکان، جن میں سیکرٹری مکیش شامل ہیں، 9 ایریا کمیٹی کے ممبران اور 8 پارٹی ممبران شامل ہیں۔ انہوں نے پولیس کے حوالے کیے گئے ہتھیاروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
تین AK-47 رائفلیں
چار SLR رائفلیں
دو INSAS رائفلیں
چھ 303 رائفلیں
دو سنگل شاٹ رائفلیں
ایک BGL ہتھیار
شدت پسندی کم کرنے میں اہم قدم
IG بَستر سندر راج نے کہا کہ یہ اقدام ریاست میں بائیں بازو کے شدت پسند اثرات کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے کارکنوں کی بحالی اور سماجی انضمام کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’آج کانکر ضلع میں ایک اور فیصلہ کن قدم حاصل ہوا ہے کیونکہ 21 کارکنان نے رضا کارانہ طور پر مرکزی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بائیں بازو کے شدت پسند اثرات کو کم کرنے، کمیونٹی میں اعتماد قائم کرنے اور بستر میں امن و ترقی کو فروغ دینے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔‘‘
باقی ماؤنوازوں سے اپیل
IG بَستر نے کہا، ’’ان 21 کارکنوں کے لیے بحالی اور انضمام کا عمل جاری ہے، جو ایک محفوظ، جامع اور ترقی پسند معاشرے کے لیے ہمارے عزم کو دوہراتا ہے۔ ہم دوبارہ علاقے کے باقی ماؤنوازوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن کا راستہ اپنائیں اور سماج میں واپس آئیں، یا پھر نتائج کے لیے تیار رہیں۔‘‘
شدت پسندی کے خلاف پیش رفت
یہ پیش رفت چھتیس گڑھ میں بائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف ایک سنگ میل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں 17 اکتوبر کو بَستر کے جگدلپور میں 208 نکسل سے متاثرہ کارکنوں نے بھارتی آئین اٹھا کر مرکزی دھارے میں واپسی اختیار کی تھی۔
پولیس اور حکومت کی تعریف
چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وشنو دیو سائی نے 21 اکتوبر کو پولیس یادگار دن کے موقع پر پولیس اہلکاروں کی بہادری اور نکسالیت کے خلاف خدمات کی تعریف کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’پولیس یادگار دن پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کی یاد منانے کے لیے منایا جاتا ہے۔ ہمارے جوان سخت حالات میں عوام کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔‘‘ نکسل ازم کے خلاف کام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’سکیورٹی اہلکاروں نے نکسل ازم کے خلاف لڑتے ہوئے انتہائی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ماؤنوازوں کو پیچھے دھکیل دیا بلکہ متاثرہ علاقوں میں ترقی بھی یقینی بنائی۔‘‘ مرکزی اور ریاستی حکومت کا مقصد ہے کہ چھتیس گڑھ سے نکسل ازم کو 31 مارچ 2026 تک ختم کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


