Union Home Ministry releases Prahaar: مرکزی وزارت داخلہ نے بھارت کی پہلی قومی انسداد دہشت گردی پالیسی ’پرہار‘ جاری کردی
سرحد پار دہشت گردی، ڈرون حملوں اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع قومی فریم ورک۔ زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ۔ دہشت گردی سے متعلق جرائم کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سپرد ہوں گی، جس کا مقصد مؤثر پیروی اور زیادہ سے زیادہ سزا کی شرح کو یقینی بنانا ہوگا۔
Maoist cadres surrender with weapons: چھتیس گڑھ کے بَستر میں 21 ماؤنوازوں نے ہتھیاروں کے ساتھ کیا سرنڈر، 13 خواتین بھی شامل
یہ پیش رفت چھتیس گڑھ میں بائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف ایک سنگ میل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں 17 اکتوبر کو بَستر کے جگدلپور میں 208 نکسل کارکنان نے بھارتی آئین اٹھا کر مرکزی دھارے میں واپسی اختیار کی تھی۔
Nation is on verge of being free from Naxal-Maoist terror: ’’ملک نکسلیوں اورماؤنوازوں کی دہشت سے آزادی کے قریب‘‘ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کا بحریہ کے اہلکاروں سے خطاب
وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کو نکسل ازم کے خاتمے میں ان کی قربانیوں اور خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے مسلح افواج کو اپنا ’’خاندان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ گیارہ برسوں سے ہر سال دیوالی ملک کی افواج کے ساتھ منانے کی روایت برقرار رکھی ہے۔
PM Modi Declares Imminent End to Naxalism: وزیراعظم نریندر مودی کا اعلان: بھارت جلد نکسلی دہشت گردی سے مکمل طور پر ہوجائے گا آزاد
گزشتہ دس برسوں میں ہزاروں نکسلیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر خودسپردگی کی ہے، جن میں سے صرف پچھلے 75 گھنٹوں میں 303 نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2014 سے گمراہ نوجوانوں کو اصل دھارے میں واپس لانے کے لیے حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ کام کررہی ہے۔
Maoist menace present in only 11 districts: وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں نکسل ازم پر بڑی کامیابی، نکسلی صرف 11 اضلاع تک ہوئے محدود
وزارت داخلہ کے مطابق چھتیس گڑھ کے بیجاپور، سکما اور نارائن پور کو سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع قرار دیا گیاہے۔ 2013 میں 126 اضلاع نکسل ازم کی زد میں تھے جو اب گھٹ کر صرف گیارہ رہ گئے ہیں۔
Amit Shah To Visit Maharashtra: وزیر داخلہ امت شاہ مہاراشٹر کے دو روزہ دورے پر جائیں گے، آپریشن سندورکے بعد ریاست کا پہلا دورہ
امت شاہ کا مہاراشٹر کا یہ دورہ بھارت کی عالمی سطح پر جاری "آپریشن سندور" مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت بھارتی وفود دنیا بھر میں دہشت گردی کے پاکستانی خطرے کو اجاگر کر رہے ہیں اور خود دفاع کے حق میں عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




