Bharat Express DD Free Dish

Jalil Akhtar: مغربی بنگال، بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہے میں 87 روز حراست میں رہنے کے بعد 70 سالہ شہری کو اے پی سی آر کی کوششوں سے ملی ضمانت

جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری دستاویزات کی تصدیق، عمر اور دیگر حالات کا جائزہ لینے کے بعد ضمانت منظور کی

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں مغربی بنگال کے ضلع اتر دیناج پور کے باگروئی گاؤں کے رہائشی 70 سالہ جلیل اختر کو 87 روز حراست میں رہنے کے بعد ضمانت مل گئی۔ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔ جلیل اختر کو 19 جون کی شب دالکولا تھانے کی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ اپنے گھر کے باہر سو رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں تقریباً 35 کلومیٹر دور نظام پور کے حراستی مرکز اور اسلام پور جیل کے درمیان منتقل کیا جاتا رہا۔ انہیں چار سے پانچ روز تک بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب بھی رکھا گیا۔ جلیل اختر کی حراست کے بعد ان کے اہل خانہ نے ان کی بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے مختلف سرکاری دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ان کا نام 1995 کی ووٹر لسٹ کے علاوہ 2002 اور 2026 کی انتخابی فہرستوں میں بھی درج ہے۔ اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کی کیس ڈائری میں موجود ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جلیل اختر 1982 سے ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔

اے پی سی آر نے دستاویزات کی تصدیق کا مطالبہ کیا

اسلام پور کی عدالت میں جاری کارروائی کے دوران اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ اور قانونی ٹیم، جس میں ایڈووکیٹ فیروز احمد اور ہائی کورٹ کے وکیل سید نافر الاسلام شامل تھے، نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ جلیل اختر کے اہل خانہ کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق کی جائے۔ مجسٹریٹ کی ہدایت پر تفتیشی افسر نے بعد میں اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس میں جلیل اختر کے ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، 1995 کی انتخابی فہرست میں موجود ریکارڈ اور 2002 کے ایس آئی آر ریکارڈ کی صداقت کی تصدیق کی گئی۔

چار مرتبہ ملتوی ہوئی ضمانت کی سماعت

جلیل اختر کی ضمانت کی سماعت چار مرتبہ ملتوی ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ہر مرتبہ دستاویزات کی تصدیق میں تاخیر کا حوالہ دیا گیا۔ دفاع کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی شہریت کے قانون کے تحت 1987 سے قبل پیدا ہونے والے افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے اپنے والدین کے پیدائشی ریکارڈ پیش کرنا لازمی نہیں ہے۔

عدالت نے حراست کے حالات اور سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیا

2 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالت کے سامنے پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ اور جلیل اختر کی حراست کے حالات کا جائزہ لیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انہیں ملک بدر کرنے کی متعدد کوششیں مکمل نہیں ہو سکی تھیں اور ان کی شہریت کا معاملہ ابھی متعلقہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے حتمی طور پر طے ہونا باقی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مجموعی حالات، بالخصوص ملزم کی عمر، کسی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کا نہ ہونا، ان کی جانب سے پیش کیے گئے بعض سرکاری ریکارڈ کی تصدیق، مسلسل انتخابی فہرستوں میں ان کا نام موجود ہونا، دستاویزات کے جعلی ہونے سے متعلق کسی ثبوت کا سامنے نہ آنا، پولیس کی جانب سے مزید حراستی تفتیش کی کوئی درخواست نہ ہونا، فرار ہونے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی معقول خدشہ نہ ہونا، اور شہریت کے معاملے کا مجاز اتھارٹی کے ذریعے حتمی فیصلہ نہ ہونا ــ ان تمام حالات میں انہیں مزید حراست میں رکھنے کا کوئی مفید مقصد پورا نہیں ہوگا۔

87 روز بعد حراست سے رہائی

عدالت نے چنانچہ جلیل اختر کو ضمانت دے دی۔ انہیں 15 ستمبر کو باضابطہ طور پر حراست سے رہا کر دیا گیا۔ اس طرح انہوں نے مجموعی طور پر 87 روز حراست میں گزارے۔ اے پی سی آر کے مطابق اس معاملے میں تنظیم کی مداخلت میں حقائق کی جانچ، قانونی معاونت اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے کوششیں شامل تھیں۔ اے پی سی آر کی ٹیم نے قانونی امداد فراہم کرنے والے وکیل اور دفاعی وکیل کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ جلیل اختر کے اہل خانہ کی جانب سے پیش کیے گئے اہم دستاویزات عدالت کے سامنے رکھے جائیں اور ان کی باضابطہ تصدیق ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read