Bharat Express DD Free Dish

APCR

عرضداشت میں اس بات پرخصوصی زوردیا گیا ہے کہ مسجد اوراس کے آس پاس آباد جھگی بستیوں کی قانونی حیثیت کوالگ الگ دیکھا جانا چاہئے۔ تنظیم کے مطابق اگران بستیوں کوہٹانے کا معاملہ زیرغورہے تواس کا اطلاق تاریخی مسجد پرنہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسجد ان بستیوں سے کہیں قدیم ہے اوراس کی اپنی مستقل قانونی حیثیت ہے۔ جھگیوں کوہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات کی آڑمیں مسجد کو خالی کرانے یا منہدم کرنے کی کارروائی ان احکامات کے دائرے سے تجاوزہوگی۔

قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل ڈویژن بینچ, ندیم خان کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ 29 ستمبر کو پولیس نے انہیں جنتر منتر پر مجوزہ پُرامن احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ڈٹینڈ رکھا۔ عدالت نے درخواست پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری درخواستیں دیں، اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم نہ کرنے اور قانونی طریقۂ کار و شفافیت یقینی بنانے پر زور

دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے بعد سیاسی لیڈران کی جانب سے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، اپوزیشن نے بی جے پی پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری دستاویزات کی تصدیق، عمر اور دیگر حالات کا جائزہ لینے کے بعد ضمانت منظور کی

 سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے سخت سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا۔ کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیا گیا، جبکہ عمران مسعود، مایاوتی اور اسدالدین اویسی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

اے پی سی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے سرکاری عہدے یا محکمہ جاتی حیثیت کو کسی بھی صورت میں تفتیش پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے اور تمام فریقوں کے ساتھ یکساں قانونی برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِحراست مدت بھی رہی، جوفروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتارکئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردارادا کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔

نوئیڈا اورگریٹرنوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والے وسیع تر قانونی معاملات کا حصہ ہے۔ مزدوروں نے اجرت، اوور ٹائم کی ادائیگی، کام کے حالات اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کیا تھا۔ احتجاج کے دوران صورتِ حال میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد متعدد افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے گئے، جس کے نتیجے میں کئی مزدور اور دیگر افراد طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے۔

ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ گجرات لینڈ ریوینیو ایکٹ ایسے احکامات کے خلاف اپیل کا قانونی حق فراہم کرتا ہے اور اپیل دائر کرنے کے لئے 90 دنوں کی مدت مقرر ہے۔ صرف 5 دن میں انہدام کا حکم نافذ کرنے کی ہدایت نہ صرف اس قانونی حق کو عملاً سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اصولِ انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔