Bharat Express DD Free Dish

APCR

اے پی سی آرنے واضح کیا کہ گرچہ قومی سلامتی اورسرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اورشہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کوواقعی مؤثرسماعت کا موقع ملا؟

اے پی سی آر نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں کے اُن درجنوں متاثرہ خاندانوں کو بڑی قانونی راحت دلائی ہے جن کے مکانات کو بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا خدشہ تھا۔

 ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) مغربی بنگال چیپٹر نے اکبر منڈل کی موت کے معاملے پر اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کا عنوان ’’الزامات، شواہد اور فرقہ وارانہ تناظر: اکبر منڈل کی موت کی تحقیقات‘‘ رکھا گیا ہے۔

سیمینارکا مقصد مجوزہ قانون کے آئینی آزادی، شہری حقوق اورسماجی ہم آہنگی پرممکنہ اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ پروگرام کی صدارت بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس ابھے تھپسے نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین ہرشہری کواپنے مذہب پرعمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اوراس کا آزادانہ اظہارکرنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنماؤں نے امریکہ-ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروائیوں، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔

جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی مسجد کے انہدام کے خلاف مسلم تنظیموں نے عدالتی تحقیقات، مسجد کی ازسرِ نو تعمیر اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔

اے پی سی آر سے وابستہ سینئر ایڈووکیٹ خواجہ معز الدین نامپلی / مساب ٹینک علاقے میں ایک مبینہ ہٹ اینڈ رن حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کے اچانک انتقال پراے پی سی آر کے ذمہ داران نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

اے پی سی آر نے دہلی فساد سازش معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے خالد سیفی کو دی گئی چھ ماہ کی عبوری ضمانت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف خالد سیفی اور تسلیم احمد کے لیے ایک بڑی راحت ہے بلکہ یہ آئینی حقوق، قانونی تقاضوں اور شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے عدالتی نگرانی کی اہمیت کی توثیق بھی ہے۔

اے پی سی آر کی مدھیہ پردیش یونٹ نے بھوپال میں کامیابی کے ساتھ ریاستی کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں وکلا، اساتذہ، سماجی کارکنان، علماء، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ریاست کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے محروم طبقات کے افراد نے شرکت کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری بیانیہ، جس میں واقعے کو “دو برادریوں کے درمیان جھڑپ” قرار دیا گیا، زمینی حقائق اور دستیاب شواہد سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ اے پی سی آر کے مطابق ریاستی کارروائی میں “منتخب قانون نافذ کرنے” اور “امتیازی استغاثہ” کے واضح آثار دیکھے گئے۔